کبھی ان کا نام لینا کبھی ان …
کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا
وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی
کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا
ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا
شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری
کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا
وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا
کہاں میرے دل کی حسرت، کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا، ترے دوش پر بکھرنا
چلے لاکھ چال دنیا ہو زمانہ لاکھ دشمن
جو تری پناہ میں ہو اسے کیا کسی سے ڈرنا
وہ کریں گے نا خدائی تو لگے گی پار کشتی
ہے نصیرؔ ورنہ مشکل، ترا پار یوں اترنا
کلام: حضرت سید نصیر الدین نصیر گیلانی ؒ
تاج دارے حُجرہ شَاہ مُقِیم، سجادہ نشین درگاہ عالیہ حُجرہ منورہ، سخی إبن سخی لجپال، سّيد السّادات، پیر طریقت، رہبر شریعت، قطب دوراں، قلندر زماں، مجسمہ فقر و شرع، سرتاج اولیاء، قطب الاقطاب، جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، الحسنِؑ و الحسينِؑ،ِ اولاد حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ، شہنشاہ سخی لجپال حـضور ســـّيد اعــــجاز عـلی شــاہ گـــیلانی دامت برکاتم سائیں پاک.
سگِ ميراں ؓ ؛ قیصر رزاق بھنڈر الحجروی
💚 یا حضرت سخی دم میراں لعل پاک بہاول شیر قلندر ؒ 💙
Categories: ؒسجادہ نشین حضور سید اعجاز علی گیلانی
Sorry, comments are closed for this item.
